بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "بلومبرگ" نے ایران اور چین کے درمیان ریلوے تجارت میں اضافے کی خبردی اور لکھا: "ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے بعد، چین کے ساتھ ریلوے تجارت میں اضافہ کرکے ہفتہ وار ایک گاڑی سے دو گاڑیوں تک بڑھا دی ہے۔"
"ٹینکر ٹریکرز" نے لکھا: "گذشتہ دو دنوں میں، ایران کے 3 خالی آئل ٹینکرز، پاکستان کے ملکی اقتصادی زون سے گذرکر، امریکہ کی ناکہ بندی توڑ کر، ایران پہنچے ہیں۔ ان تین جہازوں کی گنجائش 50 لاکھ بیرل ہے۔"
امریکی تجزیہ کار "جیویر بلاس (Javier Blas)" نے لکھا: "وائٹ ہاؤس کی باتیں مت ماننا؛ ایرانی تیل کے کنویں نہ صرف پھٹے نہیں ہیں بلکہ بدستور تیل پمپ کر رہے ہیں۔ کوپرنک سیٹلائٹ تصاویر میں، جزیرہ خارک میں تیل بھرتے ہوئے تین جہاز دکھائی دے رہے ہیں۔"
ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے تیل کے کنویں، امریکی ناکہ بندی اور برآمدات کے عدم امکان کی وجہ سے پھٹ جائیں گے!
اور ہاں! جزیرہ خارک کے اطراف میں تیل کا ایک دھبہ ـ ٹرمپ کے بیوقوفانہ تصور کی ترویج کے لئے ـ ایران دشمن میڈیا کی دستاویز بن گیا لیکن معلوم ہؤا کہ وہ دھبہ توازن برقرار رکھنے والا تیل ملا گٹی پانی ہے جو ایک یورپی ٹینکر نے سمندر میں خالی کر دیا ہے۔
ادھر سی این این کے میزبان نے تھوڑی دیر پہلے کہا: ایران کی بحری ناکہ بندی بھی ناکام ہو گئی۔
امریکی بحری ناکہ بندی ناکام رہی: یہ بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی!، فرید زکریا
سی این این کے میزبان اور تجزیہ کار فرید زکریا نے کہا: امریکی حکومت اس بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے اور ایران نے اس مسئلے کو بخوبی سمجھ لیا ہے؛ عملی طور پر امریکہ کو ایک قسم کے تعطل کا سامنا ہے، ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا اور جواب میں ٹرمپ نے ایک قسم کی ناکہ بندی کے ذریعے تمام جہازوں حتیٰ کہ ایرانی جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی تاکہ شدید اقتصادی دباؤ ڈال کر تہران کو مذاکرات میں رعایت دینے پر مجبور کرے۔ لیکن یہ منصوبہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہؤا۔
اس کے بعد ٹرمپ نے نام نہاد "آپریشن آزادی" کے ذریعے اس ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کی، لیکن ایران نے اس پر ردعمل ظاہر کیا اور یہ کوشش بھی ناکام رہی۔
ضروری نہیں کہ ایران کا مقصد امریکی جہازوں کو تباہ کرنا ہو؛ بلکہ اتنا کافی ہے کہ حالات کو اتنا غیرمحفوظ بنا دیا جائے کہ انشورنس کمپنیاں ٹینکروں کو کوریج دینے کے لئے تیار نہ ہوں۔ [اور یہ مقصد حاصل کر لیا ہے]۔
امریکہ کی بحری ناکہ بندی؛ زیادہ خطرات کم نتائج، اٹلانٹک
اٹلانٹک نے ایک رپورٹ میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتائج کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے:
- امریکہ 'آبنائے ہرمز کے جال' میں پھنس کر رہ گیا ہے اور اس فرسودہ کردینے والی جنگ میں پہل ایرانی فریق کے اختیار میں ہے۔
- ایران کے ساحلوں کے قریب امریکی اربوں ڈالر کے بحری جہازوں کی موجودگی انہیں تیز رفتار کشتیوں، ڈرونز اور بحری بارودی سرنگوں کے سنگین خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔ یہ غیر متناسب اور کم لاگت کے خطرات ہیں جو امریکہ کے جدید ترین آلات کو غیر فعال کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ